. . . . . Hypocrisy Thy Name is . . . . . منافقت . . . . .

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی..اللہ کے بندوں کو آتی نہیں روباہی...Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy منافقت eats away human values instilled in human brain by the Creator. I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it. My blog will be objective and impersonal. Commentors are requested to keep sanctity of my promise.

Sunday, September 11, 2005

جموں کشمیر کے جوانوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے ۔JK 18

جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے تیسری سیاسی تحریک جو 1931 عیسوی میں شروع ہوئی تھی وہ آج تک مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری ہے ۔ دوسری مسلح جدوجہد 1989 میں شروع ہوئی اور پاکستان کی حکومت کی امداد کے بغیر آج تک جاری ہے ۔ اس دوسری مسلح تحریک کا آغاز کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی یہ کسی باہر کے عنصر کے ایماء پر شروع کی گئی ۔ حقیقت کچھ اس طرح ہے ۔
۔
ایک طرف بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان تنگ آ چکے تھے اور دوسری طرف سب سے مایوس ہونے کے بعد پاکستان سے بھی مایوسی ہی ملی ۔
بےنظیر بھٹو نے 1988 میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت کے پردھان منتری راجیو گاندھی سے دوستی شروع کی اور جہاں کہیں لکھا تھا کشمیر بنے گا پاکستان وہ مٹوا دیا یہاں تک کہ راولپنڈی میں کشمیر ہاؤس کے سامنے سے وہ بورڈ بھی اتار لیا گیا جس پر کشمیر ہاؤس لکھا تھا اور اس سے بھی بڑھ کر خیر سگالی کرتے ہوئے اں راستوں کی نشان دہی بھارت کو کر دی جن سے جموں کشمیر کے لوگ سرحد کے آر پار جاتے تھے ۔ مقبوضہ علاقہ کے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے لئے رضاکار آزاد جموں کشمیر سے کپڑے ۔ جوتے ۔ کمبل وغیرہ لے کر انہی راستوں سے جاتے تھے ۔ بھارتی فوج نے ان راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ۔ کئی سو کشمیری مارے گئے اور بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند ہو گئی ۔
۔
بوڑھے جوانوں کو ٹھنڈا رکھتے تھے ۔ جب بوڑھوں کے پاس جوانوں کو دلاسہ دینے کے لئے کچھ نہ رہا تو جوانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی ٹھانی ۔ ابتداء یوں ہوئی کہ بھارتی فوجیوں نے ایک گاؤں کو محاصرہ میں لے کر مردوں پر تشدّد کیا اور کچھ خواتین کی آبروریزی کی ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا تھا مگر اس دفعہ ایک تو جوان بدلہ لینے کا فیصلہ کر چکے تھے اور دوسرے بھارتی فوجی اتنے دلیر ہو چکے تھے کہ انہوں نے خواتین کی بےحرمتی ان کےگاؤں والوں کے سامنے کی ۔ اس گاؤں کے جوانوں نے اگلے ہی روز بھارتی فوج کی ایک کانوائے پر اچانک حملہ کیا ۔ بھارتی فوجی کسی حملے کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے مسلمان نوجوانوں کا یہ حملہ کامیاب رہا اور کافی اسلحہ ان کے ہاتھ آیا ۔ پھر دوسرے دیہات میں بھی جوابی کاروائیاں شروع ہو گئیں اور ہوتے ہوتے آزادی کی یہ مسلحہ تحریک پورے مقبوضہ جموں کشمیر میں پھیل گئی ۔
۔
اس تحریک آزادی اور تحریک آزادی 1947 میں فرق
۔
اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جبکہ 1947 والی تحریک کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔
۔
یہ ہر علاقے کی اپنی انفرادی کاروائی ہے جبکہ وہ اجتمائی تحریک تھی ۔
۔
اسے شروع کرنے والے تربیت یافتہ نہیں جبکہ 1947 والی تحریک میں تربیت یافتہ لوگ شامل تھے ۔
۔
تحریک آزادی 1947 کو پاکستان کے لوگوں کی طرف سے افرادی قوّت اور مالی امداد حاصل تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ تحریک کو انفرادی طور پر مالی امداد 2001 تک ملتی رہی پھر حکومت نے نہ صرف امداد بند کرا دی بلکہ جن رفاعی اداروں کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مالی امداد کا بندوبست کرتے رہے ہیں ان پر کڑی پابندی لگا دی ۔ اس سلسلہ میں موجودہ حکومت نے کافی بے گناہ لوگوں کے خلاف تھانوں میں مختلف نوعیت کی ایف آئی آر درج کی ہوئی ہیں ۔ افرادی امداد جو تھوڑی سی انفرادی طور پر تھی پچھلے چار سال سے بالکل بند ہے ۔
۔
میرے پاس تازہ اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ صورت حال 1989 سے لے کر 2004 تک مندرجہ ذیل ہے ۔
۔
ایک لاکھ کے قریب مکانات جلا دیئے گئے
۔
ایک لاکھ سے زائد مسلمان شہید کئے گئے
۔
102403 مسلمانوں کوگرفتار کر کے ٹارچر کیا گیا
۔
25275 خواتین بیوہ ہوئیں
۔
103620 بچے یتیم ہوئے
۔
18997 خواتین کی آبروریزی کی گئی
۔
پاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں بھارتی فوج کا ظلم و ستم بہت کامیاب جا رہا ہے ۔ وہ روزانہ دس بارہ جوانوں کو مار دیتے ہیں اور مکانوں کو آگ لگا کر درجنوں بےگناہ مسلمانوں کو بے گھر کر دیتے ہیں ۔ اور مسلمان خواتین کی بے حرمتی بھی جاری ہے ۔
۔
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اور انسانیت کا علمبردار کہنے والے ۔ جموں کشمیر کے ان ستم رسیدہ لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ۔ ان نام نہاد روشن خیال اور امن پسند لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اگر ان کے بھائی یا جوان بیٹے کو اذیّتیں دے کر مار دیا جائے اور کچھ دن یا کچھ ہفتوں کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملے ۔ اگر ان کی ماں ۔ بہن ۔ بیوی ۔ بیٹی یا بہو کی آبروریزی کی جائے ۔ اگر ان کا گھر ۔ کاروبار یا کھیت جلا د ئیے جائیں ۔ تو وہ کتنے زیادہ روشن خیال اور کتنے زیادہ امن پسند ہو جائیں گے ؟

2 Comments:

  • At 11:05 pm, Anonymous Anonymous said…

    اب آپ کا ےہ بلاگ جاذب نظر لگ رہا ہے، دوسرے والے بلاگ کی ٹملیٹ بھی تبدیل کرلیں اچھا لگے گا ۔

     
  • At 3:50 pm, Blogger افتخار اجمل بھوپال said…

    شعیب صاحب
    میں نے اپنے دوسرے بلاگ میں معمولی تبدیلی کی ہے دیکھئے کچھ بہتر ہوا ؟

     

Post a Comment

<< Home