. . . . . Hypocrisy Thy Name is . . . . . منافقت . . . . .

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی..اللہ کے بندوں کو آتی نہیں روباہی...Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy منافقت eats away human values instilled in human brain by the Creator. I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it. My blog will be objective and impersonal. Commentors are requested to keep sanctity of my promise.

Sunday, January 01, 2006

یہودی ریاست کا حق

" غیر تو غیر ہوۓ اپنوں کا بھی یارا نہ ہوا" کے مصداق کچھ پاکستانی بھائیوں کا بھی یہ خیال ہے کہ اسرائیل یہودیوں کا حق تھا یا یہ کہ چونکہ اسرائیل بن چکا ہے اس لئے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیئے ۔

جہاں تک ریاست کے حق کا معاملہ ہے تو اس کی کچھ تو زمینی بنیاد ہونا چاہیئے ۔ میں نے اپنی تحاریر میں جو تاریخی حقائق بیان کئے ہیں وہ یہودی ریاست کی نفی کرتے ہیں ۔
دیکھئے میری تحاریر 14 نومبر 2005 ۔ 22 نومبر 2005 ۔ 30 نومبر 2005 اور 8 دسمبر 2005 ۔

یہ دستاویزی حقیقت میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام مسجد الاقصی میں عبادت کرتے رہے مگر حج کے لئے وہ مکّہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہی جاتے تھے ۔

حضرت یوسف علیہ السلام جب مصر کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے خاندان کے 31 اشخاص کو جن میں ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اور سارے بھائی بھی شامل تھے مصر بلا لیا تھا ۔ باقی بنی اسراءیل کے یہودی پہلے ہی دولت و ثروت کی خاطر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آباد ہو گئے تھے اور مصریوں کے غلام تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جاتے ہوۓ مسجد الاقصی فلسطینی باشندوں کے سپرد کر دی جو کہ نیک لوگ تھے مگر بنی اسراءیل میں سے نہیں تھے ۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے 300 سال بعد حضرت موسی علیہ السلام مصر میں پیدا ہوۓ ۔ جس سرزمین پر یہودی اپنی میراث ہونے کا دعوی کرتے ہیں اسے انہوں نے اپنی مرضی سے حضرت موسی علیہ السلام سے 400 سال پیشتر خیر باد کہہ کر مصر میں دولت کی خاطر غلام بننا قبول کیا تھا

حضرت موسی علیہ السلام کے 40 سال بعد تک بنی اسراءیل صحراۓ سینائی میں بھٹکتے رہے یہانتک کہ ان کی اگلی نسل آ گئی جس میں حضرت داؤد علیہ السلام پیدا ہوۓ اور انہوں نے بھٹکی ہوئی بنی اسراءیل کو فلسطین جانے کو کہا ۔ میں لکھ چکا ہوں کہ کس طرح حضرت داؤد علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ اول تو حضرت داؤد علیہ السلام یہودی نہ تھے بلکہ قرآن شریف کے مطابق مسلم تھے لیکن اگر یہودیوں کی بات مان لی جاۓ تو بھی یہ حکومت اس وقت مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی جب آج سے 2591 سال قبل بابل والوں نے اس پر قبضہ کر کے بمع عبادت گاہ سب کچھ مسمار کر دیا تھا اور بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا تھا ۔ (بابل عراق کے شمالی علاقہ میں ہے)

اب پچھلی صدی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اس کی مثال اس طرح ہے ۔ کہ میرے پاس 100 ایکڑ زمین تھی ایک جابر اور طاقتور شخص نے اس میں سے 60 ایکڑ پر زبردستی قبضہ کر لیا ۔ اب صلح کرانے والے مجھے یہ مشورہ دیں کہ "میری 60 فیصد زمین پرظالم کا قبضہ ایک زمینی حقیقت ہے اس لئے میں اسے قبول کر لوں اور شکر کروں کہ 40 ایکڑ میرے پاس بچ گئی ہے ۔" کیا خوب انصاف ہوگا یہ ؟ ؟ ؟ اور پھر اس کی کیا ضمانت ہو گی کہ وہ طاقتور شخص مجھ سے باقی زمین نہیں چھینے گا ؟

ثابت یہی ہوتا ہے کہ فلسطین یا اس کا کوئی حصہ کبھی بھی یہودیوں کی مملکت نہیں تھی اور ریاست اسرائیل کا وجود جور و جبر کا مرہون منت ہے ۔اگر یہ اصول مان لیا جاۓ کہ چونکہ 1005 قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت شروع ہونے سے وہاں بابل والوں کے قبضہ تک 400 سال یہودی فلسطین کے علاقہ میں رہے اس کی بنیاد پر یہودیوں کی ریاست وہاں ہونا چاہیئے تو پھر ہسپانیہ ۔ مشرقی یورپ۔ مغربی چین ۔ مغربی روس اور ہندوستان پر 800 سال یا اس سے زیادہ عرصہ مسلمانوں کی حکومت رہی ہے چنانچہ یہ سارے ملک مسلمانوں کے حوالے کر دیئے جائیں ۔ اسی طرح اور کئی ملکوں کا تنازع کھڑا ہو جاۓ گا ۔ کوئی عجب نہين کہ کل کو بھارت کے ہندو کہیں کہ پاکستان پر تو ہمارے اشوک کمار اور چندر گپت کی حکومت تھی اور اسے واپس لینے کے لئے بھارت پاکستان پر حملہ کردے اور امریکہ وغیرہ اسرائیل کے متذکّرہ اصول پر بھارت کا ساتھ دیں ۔

علامہ اقبال کا ایک شعر ہے
ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پہ حق نہیں کیوں اہل عرب کا

پاکستان کے ایک سابق سفیر غیّور احمد صاحب نے ایک جامع مضمون لکھا ہے ۔
Myth of historical right

4 Comments:

  • At 7:13 pm, Anonymous Anonymous said…

    [ur]السلام علیکم
    بہت ہی اہم تحریر۔آپ کی یہ خوبصورت اور معلوماتی تحریریں ہماری معلومات میں اضافہ کا باعث ہیں۔برائے کرم انہیں جاری رکھئیے گا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپکے علم میں اور اضافہ اور ترقی عطا فرمائے۔آمین[/ur]

     
  • At 9:13 pm, Blogger افتخار اجمل بھوپال said…

    Mr Ali Chishti
    It is imperative for Pakistan that, in stead of getting involved in others' affairs, should put it's own house in order.
    پردیسی صاحب
    آپ کی نیک دعاؤں کا مشکور ہوں ۔ مجھ سے جو خدمت ہو سکی انشاء اللہ کروں گا

     
  • At 8:08 pm, Blogger urdudaaN said…

    محترم!
    میں ھمیشہ سے مسئلۂ فلسطین کی تاریخ کیلئے انٹرنیٹ کے گشت لگاتا رہا ہوں۔
    میرے لئے اس کا مطالعہ اسلئے بھی اھم ھیکہ یہ ایک سبق آموز اور دل آزار داستان ھے۔
    میں نے ارضِ فلسطین کے بتدریج غصب کیے جانے کے نقشے اور کچھ مواد جمع بھی کیا ھے۔
    یہ معاملہ اقوام ِ متحدہ، یورپ و امریکہ کی قلعی کھولنے کے علاوہ دنیا بھر کی بے حسی، عیاری و چاپلوسی کا آئینہ بھی ھے۔

    آپ اپنا قیمتی وقت اس میں صرف کرکے ایک کار ِ خیر کررھے ھیں، اسے جاری رکھئے گا۔
    ساتھ ھی اگر آپ مسلمانوں کی فلسطین کے تئیں بے حسی، بے دلی و دیگر غلطیاں بھی اجاگر کریں تو یہ ایک مکمّل داستان آئندہ والوں کیلئے محفوظ ھوجائیگی۔

    یہ سلسلہ جاری رکھیے گا۔

     
  • At 8:01 am, Blogger افتخار اجمل بھوپال said…

    اُردو دان صاحب
    جو کچھ میں لکھ رہا ہوں یہ میرے سالہا سال کے مطالع اور تجربہ کا نچوڑ ہے ۔ اپنی نیک دعاؤں میں مجھے یاد رکھیئے

     

Post a Comment

<< Home