. . . . . Hypocrisy Thy Name is . . . . . منافقت . . . . .

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی..اللہ کے بندوں کو آتی نہیں روباہی...Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy منافقت eats away human values instilled in human brain by the Creator. I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it. My blog will be objective and impersonal. Commentors are requested to keep sanctity of my promise.

Thursday, July 21, 2005

۔ قراداد الحاق پاکستان ۔ مسلح تحریک آزادی ۔ برطانوی فضائیہ کے حملے JK7

مسلم کانفرنس کے لیڈروں نے باؤنڈری کمیشن کی ایماء پر دیئے گئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ریاستوں کے متعلق فیصلہ میں چھپی عیّاری کو بھانپ لیا ۔ اس وقت مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری غلام عباس جیل میں تھے ۔ چنانچہ قائم مقام صدر چوہدری حمیداللہ نے مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا جس نے یہ قرار داد منظور کر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو بھیجی کہ اگر مہاراجہ نے تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہ کیا تو مسلمان مسلح تحریک آزادی شروع کر دیں گے ۔

جب جیل میں چوہدری غلام عباس کو اس کا علم ہوا تو وہ ناراض ہوئے ۔ انہوں نے ہدائت کی کہ مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کا اجلاس بلا کر قرارداد الحاق پاکستان پیش کی جائے ۔ چنانچہ 19 جولائی 1947 کو جنرل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ 3 جون 1947 کے باؤنڈری کمیشن کے اعلان سے خود مختار ریاستوں کا مستقبل مخدوش ہو گیا ہے لہذا جموں کشمیر کی سواد اعظم اور واحد پارلیمانی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ جغرافیائی ۔ اقتصادی ۔ ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے ریاست جموں کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا ناگزیر ہے لہذا یہ اجلاس یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ داخلی معاملات ریاست کے عوام ایک منتخب حکومت کے ذریعہ چلائیں گے جب کہ دفاع ۔ خارجی امور اور کرنسی پاکستان کے ماتحت ہوں گے ۔

مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے کسی قسم کا جواب نہ ملنے پر جس مسلح تحریک کا نوٹس مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ نے مہاراجہ ہری سنگھ کو دیا تھا وہ 23 اگست 1947 کو نیلا بٹ سے شروع ہوئی اور ستمبر میں گلگت اور بلتستان میں پروان چڑھی ۔ مختصر یہ کہ میجر حسن خان یکم ستمبر 1947 کو جب کشمیر سےاپنی رائفل کمپنی کے ساتھ بونجی (گلگت) کی طرف روانہ ہوا تو اس نے بآواز بلند پاکستان کا نعرہ لگایا اور پوری کمپنی نے بآواز بلند زندہ باد کہا ۔ یہ کمپنی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتی اور باقی لوگوں کو ساتھ ملاتی بونجی پہنچی ۔ یہ گلگت اور بلتستان کا پاکستان سے الحاق کا اعلان تھا ۔ میجر حسن خان نے یکم نومبر 1947 تک گلگت اور بلتستان میں اپنی آزاد حکومت قائم کر کے قائد اعظم کو مطلع کیا جس کے نتیجہ میں پندرہ دن بعد پاکستان کے نمائندہ سردار عالم نے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر عنان حکومت سنبھال لیا تھا ۔

جمعہ 24 اکتوبر 1947 کو جس دن سعودی عرب میں حج تھا مسلح تحریک آزادی پونچھ سے بھی باقاعدہ شروع ہو کر مظفرآباد ۔ میرپور ۔ کوٹلی اور بھمبرتک پھیل گئی ۔ یہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے چوتھی مگر پہلی مسلح تحریک آزادی تھی ۔ ان آزادی کے متوالوں کا مقابلہ پہلے تو صرف مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے تھا مگر اکتوبر کے آخر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوج بھی پہنچ گئی اور ہندوستان کے برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فضائی حملوں کے لئے برطانوی فضائیہ کو برما سے جموں کشمیر کے محاذ پر منتقل کروا دیا ۔

اس جنگ آزادی میں حصہ لینے والے مسلمان دوسری جنگ عظیم میں یا اس کے بعد برطانوی یا مہاراجہ کی فوج میں رہ چکے تھے اور جنگ کے فن سے واقف تھے البتہ ان کے پاس زیادہ تر پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی طرّے دار بندوقیں تھیں اور دوسری جنگ عظیم کے بچے ہوئے ہینڈ گرنیڈ تھے ۔ توپیں وغیرہ کچھ نہ تھا جبکہ مقابلہ میں بھارتی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس تھی اور برطانوی فضائیہ نے بھی اس کی بھرپور مدد کی ۔
باقی انشاءاللہ آئیندہ


  • At 9:38 am, Blogger جہانزیب said…

    this to contest with your previous post l.bombing about Gas pipe line project
    The Afghan Pipeline Project

    To pursue the Afghan connection further - in 1997 the Taliban signed a £2 billion contract with an American oil company led consortium to build a 876 mile gas pipeline from Turkmenistan to Pakistan across Afghanistan at a cost of $1.9billion. This was to supply gas to Pakistan, and possibly India. It was Unocal, a Houston based company, that did the bidding and hosted the Taliban delegation in Texas. The consortium to do this was called the Central Asia Gas Pipeline Project. UNOCAL had a controlling interest of 46.5% but aborted the project in December 1998 because of the security situation - leaving the other partners still wanting to go ahead. These other partners were the Delta Oil Group of Saudi Arabia, the Turkmenistan government, Indonesian Petroleum, ITOCHU of Japan, Hyundai of South Korea and the Crescent Group of Pakistan.

  • At 9:40 am, Blogger جہانزیب said…

    here is the source page to the orignal content
    The Afghan Pipeline Project
    The Bush administration and the pipeline project

    According to a recent book, published in France, the pipelines across Afghanistan agenda was taken up again immediately George Bush came to power in the USA in February of this year. The Bush administration brought a strong oil interest into control in the White House. Apart from Bush himself,Vice President Dick Cheney, the director of the National Security Council Condoleeza Rice, the Ministers of Commerce and Energy, Donald Evans and Stanley Abraham, have all worked for a long time for U.S. oil companies. In fact between them thay have a variety of personal interests in these oil projects.

    In their book ''Bin Laden, la verite interdite'' (''Bin Laden, the forbidden truth''), authors, Jean-Charles Brisard and Guillaume Dasquie, reveal that the Federal Bureau of Investigation's deputy director John O'Neill resigned in July 2001 in protest over the obstruction of the FBI investigation into bin Laden. The obstruction was by the oil interests who dominate the government because they wanted to negotiate with the Taliban. Until August, the U.S. government saw the Taliban regime ''as a source of stability in Central Asia that would enable the construction of an oil pipeline across Central Asia'', from the rich oilfields in Turkmenistan, Uzbekistan, and Kazakhstan, through Afghanistan and Pakistan, to the Indian Ocean. Until that time, says the book, ''the oil and gas reserves of Central Asia have been controlled by Russia. The Bush government wanted to change all that''. Confronted with Taliban's refusal to accept U.S. conditions, ''this rationale of energy security changed into a military one'', the authors claim. 'At one moment during the negotiations, the U.S. representatives told the Taliban, 'either you accept our offer of a carpet of gold, or we bury you under a carpet of bombs','' Brisard said in an interview in Paris. Please note this was before the attack on the World Trade Centre.

  • At 9:43 am, Blogger جہانزیب said…

    here is the bbc news about after taliban they gave the project back to US based company
    Afghan gasline project 2002

  • At 9:50 am, Blogger جہانزیب said…

    i am sorry but here are some more
    Oil politics

    or in google search you will find few resources also

    Google results


Post a Comment

<< Home