. . . . . Hypocrisy Thy Name is . . . . . منافقت . . . . .

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی..اللہ کے بندوں کو آتی نہیں روباہی...Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy منافقت eats away human values instilled in human brain by the Creator. I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it. My blog will be objective and impersonal. Commentors are requested to keep sanctity of my promise.

Saturday, July 23, 2005

جمعہ کوگرفتار کئے گئے دہشت گردوں کی تفصیل

جس نے بھی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی ہے وہ جانتا ہے کہ پہلے لاؤڈسپیکر پر اذان ہوتی ہے اس کے بعد خطیب واعظ کرتا ہے جس میں تعلیم یافتہ خطیب عام طور پر قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہیں اور انسانی مسائل کا ذکر بھی ہوتا ہے ۔ پھر عربی میں خطبہ ہوتا ہے اور پھر نماز ۔ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اذان اگر لاؤڈ سپیکر کے بغیر دی جائے تو مسجد کے باہر سنی نہیں جا سکتی ۔

ہماری خوشحال اور روشن خیال حکومت نے تین ایمپلی فائر ایکٹ پاس کیا ہوا ہے جس کے تحت مساجد میں صرف نماز ، اذان اور عربی میں جمعہ کے خطبہ کی اجازت ہے باقی سب غیر قانونی ہے ۔ اور لاؤڈ سپیکر کا استعمال بھی غیر قانونی ہے ۔ چنانچہ پچھلے جمعہ اس قانون کی سخت پابندی کا حکم اسلام آباد کی تمام مسجدوں کے خطیبوں کو دیا گیا ۔

پاکستان میں جمعہ کو جو دہشت گرد حکومت نے پکڑے ان کی تفصیل بی بی سی کی زبانی
پنجاب پولیس نے جمعے کے روز سینکڑوں امام مساجد اور خطیبوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے اور جنوبی پنجاب سے سوا سو کے قریب افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
پاکستانی صدر پرویز مشرف نے ایک روز پہلے ہی انتہا پسندی سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ مسجدوں سے نفرت انگیز تقاریر کی اجازت نہیں دی جاۓ گی۔
لاہور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہی انہیں ہدایات مل گئی تھیں کہ صوبے میں پہلے سے نافذ تین ایمپلی فائر ایکٹ کی ہر صورت میں پابندی کروائی جاۓ۔
پولیس کے سادہ پوش اور باوردی اہلکار نماز جمعہ کے اجتماعات میں نگرانی کے لیے پہنچ گئے تھے بعد میں انہی کی تحریری رپورٹوں پر مقدمات درج ہوۓ ہیں۔
لاہور پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق شہر کی مختلف مساجد کے امام اور خطیبوں کے خلاف چھپن مقدمات درج کیے گئے

2 Comments:

  • At 3:15 am, Blogger Danial said…

    جنرل صاحب ایک ڈکٹیٹر ہیں اور اس قبیل کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ لوگوں کی آزادیوں کو ضبط کیا جائے۔ مساجد پر اس قسم کی پابندیوں سے مزید بے چینی پھیلے گی اور جنرل صاحب اپنا مقصد بالکل نہ حاصل کرپائیں گے۔

     
  • At 4:43 am, Blogger شعیب صفدر said…

    اسے کہتے ہیں اصلی اور واقعی جمہوریت۔کیوں پٹری پر ہی ہے نہ ابھی تک؟؟؟؟

     

Post a Comment

<< Home